20 فروری 2011 - 20:30

تیونس میں ڈکٹیٹر کے خلاف اٹھنے والے احتجاج کی لہر نے اب بہت سے عرب ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور زین العابدین بن علی کے بعد حسنی مبارک کو بھی اپنے اقتدار سے دست بردار ہونا پڑا اور اب بحرین کے عوام بھی اپنے ملک کے ڈکٹیٹر حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ابنا: بحرین میں ستر فیصد سے زائد آبادی شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس ملک کے حکمرانوں نے کہ جن کا تعلق دوسرے مسلک سے ہے ، ملک کی اکثریتی آبادی کو بنیادی ترین حقوق سے محروم کر رکھا ہے اور وہ اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کے شہری بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے علاقوں میں پسماندگي اور ناخواندگي کا دور دورہ ہے اور ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اپنے مسائل کے حل اور حقوق کی بازیابی کے لیے جب انہوں نے صدائے احتجاج بلند کی تو اس کا جواب انہیں گولیوں کی صورت میں دیا گيا۔ بحرینی فوج کی احتجاجی مظاہرین پر وحشیانہ فائرنگ میں دسیوں افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ بحرین کی پارلیمنٹ کے ایک رکن علی الاسود نے پریس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین کی حکومت عام شہریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ انہوں نے بحرینی فوج کے ہاتھوں عوام کے قتل عام کو روکنے کے لیے عالمی اداروں سے مداخلت کرنے کی اپیل کی۔ بعض اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اور قطر بھی عوامی احتجاج کو کچلنے کے لیے بحرین کی مدد کر رہے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق لوگوں نے قطر کی مسلح افواج کی سینکڑوں بکتربند گاڑیاں دیکھی ہیں جو سعودی عرب کے نیشنل گارڈز کی گاڑیوں کی ہم آہنگی سے سعودی عرب کے شہر بقیق کے قریب سے بحرین کی طرف جا رہی تھیں۔ اس وقت سعودی عرب بحرینی حکومت کے اتحادی کی حیثیت سے عوام کی تحریک کو کچلنے میں اس کی مدد کر رہا ہے کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ کہیں بحرین کی احتجاجی تحریک کا اثر سعودی عرب تک نہ پھیل جائے۔ بحرین کی حکومت کے ان وحشیانہ اقدامات سے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور بحرینی پارلیمنٹ کے ایک رکن "مطر مطر" نے حکمراں خاندان آل خلیفہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کی آواز سنیں اور ملک میں اصلاحات کے لیے اقدامات انجام دیں۔ اس وقت عرب قوموں میں بیداری کی لہر پیدا ہو چکی ہے۔ تیونس سے شروع ہونے عوامی احتجاج کی لہر اب شمالی افریقہ سے لے کر خلیج فارس کے جنوبی ممالک تک تمام عرب ملکوں میں پھیل گئی ہے۔ عوام اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے ملکوں میں ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی حکومتوں کا خاتمہ ہو اور وہاں جمہوری حکومتیں قائم ہوں۔ ایک ڈکٹیٹر کے برسراقتدار ہوتے ہوئے وہ نمائشی اصلاحی اقدامات کو قبول نہیں کریں گے اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے وہ اپنے احتجاجی مظاہرے جاری رکھیں گے۔ بحرین میں بھی عوام اب یہی مطالبات کر رہے ہیں اور وہ نہ صرف ڈکٹیٹروں کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ عوام پر وحشیانہ ظلم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں اور جلد یا بدیر بحرین کے حکمرانوں کو عوامی خواہشات کے سامنے سر جھکانا ہی پڑے گا اور وہ طاقت کے بل بوتے پر اب زیادہ دیر عوام پر حکومت نہیں کر سکتے کیونکہ اب ڈکٹیٹروں کی حکومتوں کا زمانہ گزر چکا ہے اور دنیا میں تبدیلی اور جمہوریت کی ہوا چل پڑی ہے اور اگر ڈکٹیٹروں نے طاقت کے زور پر اسے دبانے کی کوشش کی تو یہ طوفان بن کر ہر چیز کو اڑا کر لے جائے گی اور پھر ان کی داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔